Urdu Text
stringlengths
2
73.7k
ماہرہ خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا
تمہارا زپر کھلا ہوا ہے
کیونکہ بیک اپ میں ان سے بھی گئے گزرے کھلاڑی ہیں
مزید زیادہ لوگوں نے کہا حالات اس عرصے میں بدترین ہو جائیں گے
اس نے اچانک اپنے بھائی کو ہجوم میں دیکھ لیا
شمسی توانائی کیلئے گھریلو پلانٹ وغیرہ بھی دن بدن سستے ہوتے جارہے ہیں
عسکری پارک اور اولڈ سٹی ایریا ہے
ایسے لمحوں میں خود کو سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سونی دھرتی الله رکھے قدم قدم آباد تجھے۔
ڈال کر کوئی گردن میں طوق آ گیا لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آ گیا
سوائے ہمیں دوبارہ مسلمان بنانے کے؟
اس لئے ایسا ہی چلے گا۔
اس سے قبل کسی مشین کو کبھی بھی بزنس مشین کی حیثیت حاصل نہیں تھی
تو اسے آزادیٔ رائے سے الگ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
یہ تو کل کی بات ہے۔
کچھ ایسا اہتمام ہوتا۔
آگے چھٹیاں آ رہی تھیں ۔
آبادی کا مسئلہ ایک سماجی معاملہ ہے
وہ بہت باتونی ہے
دوسروں کے مسائل میں دلچسپی نہیں لیتا
خوشونت سنگھ نے علامہ اقبال کے کلام کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔
پنجاب بھر میں چینی کا بحران سنگین ہونے کا خدشہ
مسئلہ ایک اور بھی ہے۔
وہ بھی کھل جائیں۔
اپنا وقت ضائع کرتا ہوں
آج ہفتے کا دن ہے۔
سردیوں میں یہ راستہ بالکل بند ہوتا ہے
تو آنکھیں بھیگ سی جاتی ہیں۔
پوچھنے پر مغرور سٹوڈنٹس نے کوارڈینیٹر اور امپائر کو ہراساں کیا
کیا تم مجھے اب سن سکتے ہو؟
بہارت بڑا ملک ہے
جاگ گئے مگر پھر ناراض ہوئے کہ ہمیں جگایا کیوں
آؤ نہ گھر بسائیں اسی آسماں پہ یارو
کے موسم گرما میں لائبریری کو واپس کیا جانا تھا
نہ نظم یہ تو مکالمہ ہے۔
اشیا کے لیے اپنے ذخیروں کا بیوپار کرتے ہوئے
جو ریگزاروں پہ تالاب کے کنول لکھ دے
اب تو اس تاریک کمرے میں
تاہم ایک انوکھی سوچ پر عمل کرتے
سردی اورحالات کا مقابلہ کیا۔
اس پر حکومت کا کوئی قابل ذکر رد عمل سامنے نہیں آتا اب دو ہی صورتیں ہیں۔
طور پر بھی ملتا رہتا ہے
اس کا ایک شاخسانہ ہے کہ پاکستان کی حکومت جب قومی مفادمیں سوچتی اور اقدام کرتی ہے۔
زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
کس کو سناؤں حسرت اظہار کا گلہ
بتی پر میں نے عام طریقہ کار کے خلاف گاڑی روک دی
پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سیاست سے ان کی دلچسپی کا کیا عالم تھا۔
گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسد
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفر آیا؟
ریمیتزم کی روک تھام اور اس کا علاج
ترے جواہرِ طرفِ کُلہ کو کیا دیکھیں
اس وقت کو بڑھایا جا سکتا ہے مگر اس کی تحدید لازم ہے۔
ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
اس نے دیکھا عورت مریضہ ہے
اب کی بار نیب عدالت میں فرد جرم سننے کے لئے پیش ہوئے تو عجیب منظر تھا۔
ان کی مزید تفصیل آسانی کے ساتھ گوگل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
اس کے لیے آپ اعتماد کہاں سے لائیں گے؟
وہ سوڈان کے واحد رہنما تھے۔
انجلینا جولی کی چوتھی شادی کی افواہیں
میرے رگ و پے میں سرد لہر سی دوڑ گئی
حالات توخراب ہیں لیکن کس کرب میں ہم پھنسے ہوئے ہیں۔
بے نظیر بھٹو کا کردار ادا کرنا اعزاز کی بات ہوگی مہوش حیات
کورونا کے باعث گولڈن گلوب ایوارڈز بھی ماہ تک مخر
وزیر اعظم بینظیر بھٹو تھیں۔
مسلمان مضطرب رہتے تھے اور انہیں سکون کی تلاش تھی۔
جمہوریت مڈل کلاس اور اوپر کے طبقات کا مسئلہ ہے۔
برطانیہ میں غیر منقولہ جائیداد رکھنے والے پاکستانیوں کو نوٹس جاری
الوک ناتھ کی ریپ الزامات کے خلاف عدالت میں درخواست دائر
انسان ایک کام کا مزاج اور صلاحیت لے کر دنیا میں آتا ہے۔
تمام عمر غریبی میں با وقار رہے
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔
اس کا ذمہ دار دھرنے کو ٹھہرا یا گیا یہ بات چو نکہ خلاف واقعہ نہیں تھی۔
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جُھوٹ جانا
پنجاب یونیورسٹی سے لے کرمردان یونیورسٹی تک کے حالیہ واقعات اس بات کی شہادت ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کر نی چاہیے۔
ہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں
میں عید میں زیادہ خوش ہوتا ہوں۔
اس کی ساری برکتیں بالکل ختم ہو جاتی ہیں
آج موسم کیسا ہے؟
میں اپنے دوست سے ملنے جارہا ہوں۔
جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو
اس لیے معاشرتی صلاح و فلاح کے لیے ان کا اہتمام ضروری ہے۔
دل میں اک شعلۂ امید تھا سو سرد ہوا
دسمبر كى تاريخ یسوع مسیح اور
پارلیمان کی منظوری سے یہ صحیح معنوں میں ایک قومی بیانیہ بن پا ئے گا۔
انتخابی نظام میں اصلاح کی ضرورت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
میں نے لکھا ہی نہیں تھا یہ والا
سخت رویہ رکھتے ہوئے بھی زیادہ سلیقے کے الفاظ استعمال ہو سکتے ہیں۔
سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے
اس نے اس کا نام رکھا
پاکستان کی فوج اسلامی فوج ہے
اسے پر کون کرے گا۔
اے اللہ، ہمیں سیدھا راستہ دکھا